لکھنؤ،24؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے آج ایک بار پھر مرکزی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست کو جو پیسہ ملنا چاہئے، وہ نہیں مل رہا ہے۔ایوان میں قانون اور نظام اور دیگر مسائل کو لے کر بی جے پی ارکان کی نعرے بازی اور ہنگامہ کے درمیان وزیر اعلی نے ضمنی بجٹ کے جواز کا خاکہ پیش کرتے ہوئے مرکز پر نشانہ لگایا۔انہوں نے نعرے بازی کر رہے بی جے پی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بی جے کو لوک سبھا گھیرنا چاہئے،جو پیسہ ریاست کو ملنا چاہئے، وہ یہ لوگ(مرکز کی بی جے پی حکومت)نہیں دے رہے ہیں۔وزیر اعلی نے ایوان میں جب یہ بات کہی تو اسمبلی کے باہر بی جے پی کا مظاہرہ چل رہا تھا۔اکھلیش نے ضمنی بجٹ کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ مرکز نے ژالہ باری کسانوں کے لئے کتنا پیسہ دیا۔ضمنی بجٹ میں ان کے لئے 2000کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔انہوں نے ضمنی بجٹ میں پوروانچل ایکسپریس وے کی تعمیر سمیت دیگر اشیاء میں مانگی گئی رقم کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی پر ترقی مخالف ہونے کا الزام لگایا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت قانون نظام، کسانوں سے منسلک مسائل سمیت تمام مسائل پر بحث کے لئے تیار ہے۔وزیر اعلی نے بی ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے سابق اپوزیشن لیڈر سوامی پرساد موریہ کا بھی ذکر کیا، تاہم وہ آج بھی ایوان میں نہیں آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اپوزیشن لیڈر(موریہ)اچھے تھے، انہیں بہکا دیا۔اس سے قبل ایوان میں بی ایس پی اور حزب اختلاف کے نئے لیڈر چرن دنکر نے ضمنی بجٹ کے جواز پر سوال اٹھائے اور کہا کہ جب عام بجٹ کا ہی بمشکل پانچ سات فیصد ہی اب تک خرچ ہو پایا ہے تو ضمنی بجٹ کی کیا ضرورت ہے۔اس کے حق میں انہوں نے مختلف محکموں میں اب تک اخراجات ہوئے عام بجٹ کا اعداد و شمار بھی دیا۔بی جے پی ارکان کا ہنگامہ بہر حال جاری رہا اور اس کے درمیان ہی مالی سال 2016-17کے لئے 25347کروڑ روپے کا پہلا ضمنی بجٹ بغیر کسی خاص بحث کے صوتی ووٹ سے منظور ہو گیا۔